دینیات

عظمت نسواں: اسلام کے آئینے میں۔۔۔ جی ایم عباس

ور آدمی آدم و حوّا علیھم سلام سے اس وقت تک پیدا ہوئے آرہے ہیں اور عجیب ہونے میں اور قدرت کے سامنے عجیب نہ ہونے میں تینوں صورتیں برابر ہیں. ” دوسری جگہ  سورہ الحجرات آیت (13) میں مرد و زن کے وجود کے  حوالے سے اللّہ جل شانہ کا ارشاد ہیں: ترجمہ:”لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو. درحقیقت اللّہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے.” اس آیت کریمہ کے تفسیر میں مفکر اسلام مولانا سید مودودی علیہ رحمہ تفہیم القرآن میں رقمطراز ہے: ” اس مختصر سی آیت میں اللّہ تعالی نے تمام انسانوں کو مخاطب کرکے نہایت اہم اصولی حقیقتیں بیان فرمائی ہیں:

ایک یہ کہ تم سب کی اصل ایک ہے ، ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی ہے اور آج تمہاری جتنی بھی نسلیں دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ درحقیقت ایک ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جو ایک ماں اور ایک باپ سے شروع ہوئی تھی.اس سلسلہ تخلیق میں کسی جگہ بھی اُس تفرقے اور اونچ نیچ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے جس کے زعمِ باطل میں تم مبتلا ہو.ایک ہی خدا  تمہارا خالق ہے ، ایسا نہیں کہ مختلف خداؤں نے پیدا کیا ہو. ایک ہی مادہ تخلیق سے تم بنے ہو ،ایک ہی طریقے سے تم پیدا ہوئے ہو ، یہ نہیں ہے کہ مختلف انسانوں کے طریق پیدائش الگ الگ ہوں. اور ایک ہی  ماں باپ کی تم اولاد ہو ، یہ بھی نہیں ہوا ہے کہ ابتدائی انسانی جوڑے بہت سارے رہے ہوں جن سے دنیا کے مختلف خِطوں کی آبادیاں الگ الگ پیدا ہوئی ہوں.
دوسرے یہ کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہونا ایک فطری امر تھا.ظاہر ہے کہ پوری روئے زمین پر سارے انسانوں کا ایک ہی خاندان تو نہیں ہوسکتا تھا.نسل بڑھنے کے ساتھ ناگزیر تھا کہ بے شمار خاندان بنیں اور پھر خاندانوں سے قبائل اور اقوام وجود میں آجائیں….. خالق کائنات نے جس وجہ سے انسانی گرہوں کو اقوام اور قبائل کی شکل میں مرتب کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے درمیان باہمی تعارف اور تعاون کی فطری صورت یہی تھی.اسی طریقے سے ایک خاندان ، ایک برادری ، ایک قبیلے اور ایک قوم کے لوگ مل کر مشترکہ معاشرت بنا سکتے تھے اور زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے مدد گار بن سکتے تھے. مگر یہ محض شیطانی جہالت تھی کہ جس چیز کو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت نے تعارف کا ذریعہ بنایا تھا اسے تفاخر اور تنافر کا ذریعہ بنا لیا گیا اور پھر نوبت ظلم و عدوان تک پہنچا دی گئی.
تیسرے یہ کہ انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہے اور ہوسکتی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے.پیدائش کے اعتبار سے تمام انسان یکساں ہیں کیونکہ انکا پیدا کرنے والا ایک ہے ، ان کا مادہ پیدائش اور طریق پیدائش ایک ہی ہے.اور ان سب کا نسب ایک ہی ماں باپ تک پہنچتا ہے…..”!
“یہی حقائق جو قرآن مجید میں ایک مختصر سی آیت میں بیان کیے گئے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے مختلف خطبات اور ارشادات میں زیادہ کھول کے بیان فرمایا ہے.اور اسی ابدی حقیقت کی جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم انسانیت کی توجہ اپنے ان ارشادات میں مبذول کرائی: ایک حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم علیہ سلام مٹی سے پیدا کئے گئے تھے. لوگ اپنے آباؤ و اجداد پر فخر کرنا چھوڑدیں ورنہ وہ اللّہ کی نگاہ میں ایک حقیر کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوں گے (بزار ، زاد المعاد ). ایک اور حدیث شریف میں فرمایا ہے: “اللّہ قیامت کے روز حسب و نسب نہیں پوچھے گا. اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو.” (ابن جریر )”
غرض اللّہ تعالی نے مرد اور عورت کا رشتہ اتنا مضبوط بنایا ہے  کہ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود بے معنی ہے.اگرچہ مرد کا وجود عورت کے مقابلے میں برتر ہے لیکن عورت کا وجود انسانی سماج میں بے انتہا اہمیت رکھتا ہے. دنیا کے دیگر ادیان کے مقابلے میں اسلام دنیا کا واحد دین ہے جس نے عورت کو مرد کے برابر عظمت اور مقام بخشا یے.بلکہ بعض مقامات پر تو عورت کو مرد سے زیادہ مراعات یافتہ جنس بھی قرار دیا گیا ہے.اسلام نے عورت کو وہ مقام بخشا جس کی صداقت کا اعتراف غیر مسلم مورخوں نے بھی کردیا ہیں.طلوع اسلام سے قبل عورت کی حالت قابل رحم تھی اسے ایام طفولیت میں ہی زندہ درگور کیا جاتا تھا.سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور کتاب” الرحیق مختوم ” کے مصنف  مولانا صفی الرحمٰن طلوع اسلام سے قبل” جاہلی معاشرے کی چند جھلکیاں” عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ” عرب میں مرد و عورت کے ارتباط کی بعض صورتیں ایسی بھی تھیں جو تلوار کی دھار اور نیزے کی نوک پر وجود میں آتی تھیں یعنی قبائلی جنگوں میں غالب آنے والا قبیلہ مغلوب قبیلے کی عورتوں کو قید کرکے اپنے حرم میں داخل کر لیتا تھا لیکن ایسی عورتوں سے پیدا ہونے والی اولاد زندگی بھر عار محسوس کرتی تھی.
زمانہ جاہلیت میں کسی تجدید کے بغیر متعدد بیویاں رکھنا بھی ایک معروف بات تھی. لوگ ایسی دو عورتیں بھی بیک وقت نکاح میں رکھ لیتے تھے جو آپس میں سگی بہن ہوتی تھیں.باپ کے طلاق یا وفات پانے کے بعد بیٹا اپنی سوتیلی ماں سے بھی نکاح کرلیتا تھا.طلاق کا اختیار صرف مرد کو حاصل تھا اور اسکی کوئی حد معین نہ تھی. ( صحیح بخاری ). زنا کاری تمام طبقات میں عروج پر تھی. کوئی طبقہ یا انسانوں کی کوئی قسم اس سے مستثنیٰ نہ تھی.البتہ آذاد عورتوں کا حال لونڈیوں کے مقابل نسبتاً اچھا تھا. اصل مصیبت لونڈیاں ہی تھیں. ایسا لگتا ہے کہ اہل جاہلیت کی غالب اکثریت اس بُرائی کی طرف منسوب ہونے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتی تھیں. جاہلیت کے زمانے میں  لوگ لڑکیوں کو رسوائی اور خرچ کے خوف سے زندہ دفن کردیتے تھے اور بچوں کو فقر و فاقہ کے ڈر سے مار ڈالتے تھے.
خلاصہ یہ کہ زمانہ جاہلیت میں عرب قوم  اجتماعی حالت ضعف و بے بصیرتی کی پستی میں گری ہوئی تھی ، جہل اپنی طنابیں تانے ہوئے تھا اور خرافات کا دوردورہ تھا.لوگ جانوروں جیسی زندگی گذار رہے تھے. عورت بیچی اور خریدی جاتی تھی اور بعض اوقات اس سے مٹی اور پتھر جیسا سلوک کیا جاتا تھا. قوم کے باہمی تعلقات کمزور بلکہ  ٹوٹے ہوئے تھے اور حکومتوں کے سارے عزائم اپنی رعایا سے خزانے بھرنے یا مخالفین پر فوج کشی کرنے تک محدود تھے. ”
اسلام نے عورت کو ذلت کے اس گہرے گھڑے سے نکال کر عظمت کے تخت پر بٹھایا ہے. عورت کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر آذادی کی نعمت سے مالا مال  کردیا ہے.اسکو بازاری سامان خرید و فروخت کرنے کے بجائے ہم قدم اور ہم فکر قرار دیا ہے.آج اس ترقی یافتہ دور میں  زمانہ جاہلیت کی طرح بہت سارے ممالک میں عورت کےحُسن اور  جسم کو عریاں کرکے فروخت کیا جاتا ہے. ٹیکنالوجی کے اس دورِ جدید میں عورت کی عزت ، عفت اور عصمت تارتار ہو رہی ہے.ٹیلی ویژن اور انٹرنٹ کی سوشل میڈیا websites  پر عورت کے عریاں جسم کو تجارتی اشتہارات کے لئے لاکھوں کروڑوں رقم خرچ کرکے بڑھ چڑھ کر استعمال کیا جاتا ہے.آج بھی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زمانہ جاہلیت کی طرح لڑکیوں کو  زندہ درگور کیا جاتا ہے .فرق صرف یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنم کے بعد لڑکیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا اور آج جدید  ٹیکنالوجی کی مدد سےلڑکیوں کو ماں کے رحِم میں ہی دنیا میں آنے سے پہلے ہی درگور کیا جاتا ہیں.
بھارت میں جب لڑکیوں کی شرح پیدائش میں  کمی کی سنگین صورتحال 2011 ء کی مردم شماری میں منظر عام پر آئی   تو  حکومت وقت  نے لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ ، تعلیم اور آبادی کی شرح میں بہتری لانے کے لئے “بیٹی بچاؤ بیٹی پڑاؤ ” اسکیم کا آغاذ  ملک بھر  میں  22 جنوری 2015 ء سے ریاست ہریانہ کے پانی پت علاقہ سے شروع کیا. اس اسکیم کو جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ملک بھر کی لڑکیوں کے حقوق کو محفوظ کیا جائے اور لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابل کسی بھی میدان میں پست اور کم نہ سمجھیں. لیکن بیٹی کے بچاؤ کے یہ نعرے سب کاغذی گھوڑے ہی ثابت ہورہے ہیں کیونکہ موجودہ بی جے پی دور حکومت میں ہی ملک کی کتنی بیٹیوں کی عصمت تار تار ہوئی. آئے روز سوشل ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں یہ خبریں گشت کرتی رہتی ہیں کہ معصوم بیٹیوں کو ہراساں کرکے زبردستی انکی عفت تار تار کی گئی ہے . بے چارے متاثرین انصاف کی دھائی دیتے رہتے ہیں اور مجرمیں کھلے عام مستی کرتے رہتے ہیں. اسکی ایک زندہ مثال ریاست جموں و کشمیر کے ضلع کھٹوعہ کے تحصیل ہیرانگر کی معصوم آصفہ بانو کی دی جاسکتی ہے. آٹھ سالہ آصفہ کی عفت و عصمت  ایک سرکاری محافظ ہی تار تار کرتا رہا اور ستم ضریفی یہ ہے کہ فرقہ پرستوں کا مکروہ چہرہ سامنے آکر مجرم کو بےقصور گردانتے ہوئے انکے حق میں ریلیاں نکالتے ہیں. کیا اس ملک میں یہی بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کا  نعرہ  ہے؟ افسوس….! حکومت ہند نے لڑکیوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے ، انہیں اعلی تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کے لئے اور سماج میِں انہیں لڑکوں کے برابر حقوق دینے کے لئے “بیٹی بچاؤ بیٹی پڑاؤ ” اور “لاڈلی بیٹی ” جیسی اسکیمیں چلا رکھیں ہیں. لیکن آج اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہماری ان لاڈلی بیٹوں کی عفت و عصمت محفوظ نہیں ہے.
ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ دین اسلام کی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں اپنی زندگیوں پر نافذ کریں تو ایسا ممکن ہے کہ معاشرہ میں مرد و عورت یکسان حقوق کے ساتھ زندگی کی اس گاڑی کو احسن طریقے سے چلا سکیں گے جسکا اگر آگے والا پہیہ مرد ہے تو پچھلا پہیہ عورت ہے. آیات قرآنی اور فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ دنیا میں  اسلام واحد مذہب ہے جس نے عورت کو خصوصی توجہ کا مرکز قرار دیا ہے. عورت کی عفت ، عصمت اور عزت کا ضامن واقعی  مذہب اسلام ہے.دنیا میں اسلامی نظام بارآور ہونے کے ساتھ ہی عورت کو مصیبت کے دلدل میں پھنسنے سے نجات دلائی گئی.چونکہ معاشرتی زندگی میں عورت مرد کے بالکل ساتھ ساتھ ہوتی ہے .اس لیے معاشرتی فعل کی وہ اتنی ہی ذمہ دار ہوتی ہے جس قدر ایک مرد .اسکی سب سے بڑی وجہ وہ پیدائشی بنیاد ہے جس کے تحت اللہ تعالی نے انہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا .مقصد حیات ایک ہے .عرصہ حیات ایک نوعیت کا ہے اور دونوں یعنی  مرد و عورت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ عورت کو کسی لحاظ سے کمتر سمجھا جائے.
غیر مسلم نقاد ( critic) اسلام پر ہر بار انگلی اٹھا کر کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو گھر میں قید کرکے رکھا ہے اور عورت کو مردوں  کے برابر حقوق نہیں دیے ہیں. ان لوگوں کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ وہ رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا بڑی  گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کریں اور انہیں واضع ہو جائے گا کہ واقعی دنیا میں حقوق نسواں کا علمبردار اور ضامن صرف اور صرف دین اسلام ہے. اسلام نے عورت کو ایسا  اونچا مقام دیا کہ گھر کے اندر رہ کر ہی وہ گھر کی زینت بنتی ہے اور گھر کی چار دیواری میں رہ کر یہی عورت اپنے فرائض منصبی سے عہدہ بر آ ہو سکتی ہے. گھر کی دیکھ بھال ، بال بچوں کی پرورش وغیرہ ایسے کام ہیں جو اسکے وجود کو عظمت بخشتے ہیں. عورت اگر بیٹی ہے تو گھر میں رحمت ، بہن ہے تو برکت ، بیوی ہے تو نعمت اور ماں ہے تو اسکے قدموں کے نیچے جنت ہیں. یہ ہے وہ عزت ، عظمت اور  اونچا مقام جو اسلام نے عورت کو دیا…! کیا دنیا کے کسی اور مذہب نے عورت کو یہ مقام دیا ہیں.. ؟ الغرض اسلام عورت کے حقوق کی بازیابی کی واحد ضمانت ہے. اسلیے معاشرہ سے وابستہ ہر مرد و زن اپنے اپنے دائرہ حیات میں رہ کر اپنی  ذمہ داریوں اور فرائض سے  عہدہ برآہونے کی کوشش کریں. اسطرح زندگی کی یہ گاڈی اپنے نشانِ راہ پر سفر کرکے کامیابی سے تکمیل منزل پا سکے گی .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
www.000webhost.com